آزاد کشمیر کی خبریںاسلام آباد کی خبریںانٹرنیشنل خبریںپاکستان کی خبریںضلع میرپور کی خبریں

صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مرحوم کی زندگی پر اہم مضمون

میرپور (قاضی عابد سے)
آزاد کشمیر اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر ایک جاندار، توانا اور نڈر آواز سے محروم ہو گئی۔ صدرِ آزاد جموں و کشمیر، معروف قانون دان اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے سفیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کچھ دیر قبل وفات پا گئے۔ ان کی وفات سے نہ صرف میرپور بلکہ پوری کشمیری قوم سوگوار ہے۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 9 اگست 1955 کو چیچیاں، ضلع میرپور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے میٹرک کینٹ پبلک اسکول راولپنڈی سے حاصل کیا جبکہ گریجویشن گورڈن کالج راولپنڈی سے مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ برطانیہ گئے جہاں انہوں نے لنکنز اِن، لندن سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور ایک کامیاب قانون دان کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔
1983 میں وطن واپسی کے بعد انہوں نے عملی سیاست کا آغاز کیا۔ وہ سابق صدر آزاد کشمیر کے ایچ خورشید کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رہے۔ 1990 میں وہ صدر آزاد کشمیر کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے تاہم عمر میں ایک ماہ کی کمی کے باعث حلف نہ اٹھا سکے، جسے آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 1996 میں آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے، جبکہ 2001 میں وہ قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ 2021 میں انہیں ایک بار پھر تاریخ نے موقع دیا اور وہ صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب ہوئے، جہاں انہوں نے ریاستی وقار اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔
وہ اپنے آبائی حلقہ میرپور سے 9 مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے، جو ان کی غیر معمولی عوامی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ یہ اعزاز بھی انہیں حاصل ہے کہ آزاد کشمیر کے تقریباً ہر حلقے میں ان کا ووٹ بینک اور عوامی پذیرائی موجود تھی۔
تحریکِ کشمیر کے حوالے سے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا کردار بے مثال رہا۔ انہوں نے اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکی کانگریس، یورپی پارلیمنٹ اور دیگر عالمی فورمز پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا مقدمہ جرات اور مدلل انداز میں پیش کیا۔ لندن کے ٹرافلگر اسکوائر، نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے، برسلز میں یورپی یونین، ڈبلن میں آئرلینڈ کی پارلیمنٹ اور برلن کی دیوار پر ہونے والے تاریخی ملین کشمیر مارچز کی قیادت انہی کے حصے میں آئی۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری وہ واحد کشمیری رہنما تھے جنہیں مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت ملی۔ دورۂ سری نگر کے دوران تاریخی لال چوک میں ان کا خطاب تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے۔ اسی دورے میں انہوں نے سید علی گیلانی، سید شبیر شاہ، یاسین ملک اور دیگر حریت قیادت سے ملاقاتیں کیں، جو کشمیری جدوجہد میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
سیاسی طور پر وہ مختلف ادوار میں صدر مسلم کانفرنس آزاد کشمیر، صدر جموں و کشمیر لبریشن لیگ، صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے عہدوں پر بھی فائز رہے، جو ان کی ہمہ جہت سیاسی بصیرت اور قبولیت کا ثبوت ہے۔
سفارتی محاذ پر بھی بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اسلام آباد میں تعینات یورپی، اسلامی اور دیگر ممالک کے سفیروں سے متعدد ملاقاتیں کیں اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی پوری زندگی تحریکِ کشمیر، جمہوری جدوجہد، عوامی سیاست اور عالمی سفارتکاری کا حسین امتزاج تھی۔ وہ بلاشبہ آزاد کشمیر کے اُن چند رہنماؤں میں شامل تھے جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔
ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا، تاہم ان کی جدوجہد، خدمات اور نظریہ ہمیشہ کشمیری عوام کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین و کشمیری قوم کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *